حوزہ نیوز ایجنسی کی رپورٹ کے مطابق، وفاق المدارس الشیعہ پاکستان، بلتستان ریجن کے زیرِ اہتمام آل بلتستان مدیران مدارس امامیہ کانفرنس 8 اکتوبر 2026ء کو مکتبِ زہراء، نغولی سپنگ سکردو میں منعقد ہوئی، جس میں بلتستان بھر کے مدارس امامیہ کے مدیران، علماء اور ذمہ داران نے شرکت کی۔

کانفرنس میں دینی مدارس کے تعلیمی و انتظامی مسائل، نصاب میں یکسانیت، امتحانی نظام کی اصلاح، وفاق المدارس کی اسناد کی افادیت، جدید ٹیکنالوجی سے استفادے اور مدارس کے درمیان اتحاد و تعاون پر تبادلۂ خیال کیا گیا۔
کانفرنس کے ابتدائیہ کلمات وفاق المدارس الشیعہ پاکستان، بلتستان ریجن کے نمائندے علامہ شیخ محمد جواد حافظی نے ادا کیے۔
انہوں نے وفاق المدارس کو دینی مدارس کے اتحاد، نظم و ضبط، تعلیمی معیار اور مربوط امتحانی نظام کے لیے اہم پلیٹ فارم قرار دیتے ہوئے کہا کہ اس کانفرنس کا مقصد مدارس کے مسائل پر باہمی مشاورت، تجربات کے تبادلے اور مستقبل کے لیے مشترکہ لائحہ عمل مرتب کرنا ہے۔

علامہ شیخ حسن سروری نے وفاق المدارس کی تعلیمی خدمات پر روشنی ڈالتے ہوئے کہا کہ وفاق کے ذریعے طلبہ و طالبات کو دینی تعلیم، قرآن، تجوید اور دیگر شعبوں میں امتحانات اور اسناد کی سہولت میسر ہے۔
انہوں نے اتحاد کی اہمیت پر زور دیتے ہوئے کہا کہ وفاق اور اتفاق ہی ہماری اجتماعی قوت ہیں، جبکہ انتشار ہمارے وجود کے لیے خطرہ بن سکتا ہے۔

وفاق المدارس الشیعہ پاکستان کے مرکزی خصوصی نمائندے علامہ لعل حسین توحیدی نے وفاق کے تاریخی پس منظر، امتحانی نظام اور اسناد کی افادیت پر گفتگو کرتے ہوئے کہا کہ وفاق کا امتحانی نظام باقاعدہ ضابطوں اور ریکارڈ کے تحت کام کرتا ہے، اس لیے اسناد کی ساکھ برقرار رکھنے کے لیے مرکزی امتحانی نظام اور مشترکہ نصاب کی پابندی ضروری ہے۔
انہوں نے طلبہ کی بڑھتی ہوئی تعداد کے پیش نظر امتحانی، انتظامی اور علاقائی نظام کو مزید وسعت دینے کی ضرورت پر بھی زور دیا۔

جامعہ محمدیہ کھرمنگ خاص کے مدیر سید اکبر شاہ رضوی نے مختلف اداروں کے الگ الگ امتحانات سے طلبہ کو درپیش مشکلات کا ذکر کرتے ہوئے تجویز دی کہ امتحانی مراحل کو میٹرک، ایف اے، بی اے اور ایم اے کی سطح کے مطابق مربوط کیا جائے اور دینی اداروں و امتحانی بورڈز کے نصاب اور امتحانات میں ممکنہ حد تک ہم آہنگی پیدا کی جائے۔

مدرسہ بنت الہدیٰ کے مدیر غلام محمد اعظمی نے تجویز پیش کی کہ وفاق المدارس اپنے نصاب کی مستند کتب شائع کرکے علاقائی مراکز کے ذریعے مدارس تک پہنچائے، تاکہ طلبہ کو معیاری نصابی مواد مناسب قیمت پر دستیاب ہو۔ وفاق کے نمائندوں نے بتایا کہ نصابی کتب کی اشاعت کے منصوبے پر کام جاری ہے۔
مدرسہ باب العلم رضویہ پاری کھرمنگ کے نمائندے شیخ سلمان کمال نے طلبہ کی بڑھتی ہوئی تعداد اور امتحانی و انتظامی مسائل سے متعلق سوالات اٹھائے، جس پر وفاق کے نمائندوں نے امتحانی نظام، ریکارڈ اور مراکز کو مزید منظم بنانے کی ضرورت بیان کی۔
کانفرنس میں آن لائن مدرسہ قائم کرنے کے منصوبے سے بھی آگاہ کیا گیا، جس کے تحت ملک کے مختلف علاقوں اور بیرونِ ملک طلبہ و طالبات کو ریکارڈ شدہ دروس اور مستقبل میں براہِ راست تعلیمی رابطے کی سہولت فراہم کرنے کی تجویز ہے۔

اس موقع پر مدارس کے لیے وفاق کی رکنیت کا نظام متعارف کروانے پر غور کی اطلاع بھی دی گئی، جس سے رکن مدارس وفاق کی تعلیمی و انتظامی سہولیات سے منظم انداز میں استفادہ کرسکیں گے۔
علامہ سید مرید حسین شاہ نے آیت اللہ سید حافظ ریاض حسین نجفی کی جانب سے شرکاء کو سلام پہنچاتے ہوئے بتایا کہ نجف اشرف میں علمی استفادے کے خواہش مند علماء کے لیے 15 سے 20 روزہ مختصر کورسز کے انتظامات میں تعاون کیا جا سکتا ہے۔
انہوں نے مزید کہا کہ قیام، طعام اور علمی استفادے کے انتظامات میں مدد کی کوشش کی جائے گی، جبکہ فضائی ٹکٹ اور دیگر سفری اخراجات متعلقہ افراد یا مدارس کو برداشت کرنا ہوں گے۔

علامہ مرید نے کہا کہ خواہش مند مدارس کو کم از کم دو سے ڈھائی ماہ قبل شیخ جواد حافظی یا علامہ حسن سروری کے ذریعے اطلاع دینے کی ہدایت کی گئی تاکہ ضروری انتظامات بروقت کیے جا سکیں۔
انہوں نے مزید بتایا کہ طلبہ کے لیے نجف اشرف میں باقاعدہ تعلیم کے مواقع پیدا کرنے کے سلسلے میں بھی بات چیت جاری ہے۔
علامہ مرید حسین شاہ نے مستقبل کے تقاضوں کا ذکر کرتے ہوئے مدارس پر زور دیا کہ وہ اسلامی بینکاری سمیت جدید شعبوں میں دینی رہنمائی کے لیے ایسے ماہرین تیار کریں جو دینی علوم کے ساتھ انگریزی، معاشیات اور بینکاری سے بھی واقف ہوں۔
انہوں نے مستقبل کے تربیت یافتہ مدرسین کی ضرورت پر بھی توجہ دلائی اور کہا کہ تدریس کے لیے موزوں طلبہ کی بروقت نشاندہی کرکے ان کی خصوصی علمی و تربیتی تیاری کی جائے۔
کانفرنس میں مدارس کے درمیان اتحاد، مشترکہ نصاب، مربوط امتحانی نظام اور باہمی تعاون کو دینی تعلیمی نظام کی بہتری کے لیے ضروری قرار دیا گیا۔

وفاق المدارس الشیعہ پاکستان کے نمائندوں نے واضح کیا کہ وفاق بنیادی طور پر ایک تعلیمی و امتحانی ادارہ ہے اور اس کے مالی وسائل امتحانات، اسناد اور متعلقہ فیسوں سے حاصل ہوتے ہیں؛ اس لیے موجودہ قانونی و انتظامی حیثیت کے تحت ملک بھر کے مدارس کے تمام اخراجات برداشت کرنا اس کے لیے ممکن نہیں۔
مقررین نے مدارس اور علماء کو اختلافات کے بجائے مشترکہ مقاصد پر توجہ دینے، اساتذہ کی تربیت اور طلبہ کے لیے جدید تعلیمی مواقع پیدا کرنے کی تلقین کی۔
کانفرنس کے اختتام پر مکتب زہراء، نغولی سپنگ سکردو میں وفاق المدارس الشیعہ پاکستان، بلتستان ریجن کے مقامی دفتر کا افتتاح کیا گیا۔

اس دفتر کے قیام کا مقصد بلتستان کے مدارس اور وفاق کے مرکزی نظام کے درمیان رابطے کو مؤثر بنانا اور تعلیمی، امتحانی و انتظامی امور میں مدارس کے ذمہ داران کو براہِ راست سہولت فراہم کرنا ہے۔











آپ کا تبصرہ